خدائی بانٹ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - اللہ کی طرف سے کسی کو کم کسی کو زیادہ دینے کا عمل۔ "خدائی بانٹ دنیا بھر میں مشہور ہے اور یہ مقولہ سچ ہی ہے داتا جسے دینے پر آیا دیتا ہی چلا گیا"      ( ١٩٣٢ء، رفیق تنہائی، ١١١ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'خدائی' کے ساتھ ہندی اسم 'بانٹ' لگانے سے مرکب 'خدائی بانٹ' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٣٢ء کو "رفیق تنہائی" میں مستعمل ہے۔

مثالیں

١ - اللہ کی طرف سے کسی کو کم کسی کو زیادہ دینے کا عمل۔ "خدائی بانٹ دنیا بھر میں مشہور ہے اور یہ مقولہ سچ ہی ہے داتا جسے دینے پر آیا دیتا ہی چلا گیا"      ( ١٩٣٢ء، رفیق تنہائی، ١١١ )

جنس: مؤنث